مختصر علم حال

92 ہے۔اسی لیے قضا نمازوں کے لئے بھی اذان اور ت ن ینہ ٬ نمازوں کی س ی � اوقات کی ہے۔ ت ن پڑھنا س ت اقامت رے اور صحیح غلط کی پہچان رکھنے ب � ا مکروہ ہے۔اچھے ن ینا � کسی فاسق اور جاہل کا اذان د ز ہے۔ � � ا جا ن ینا � ز کرنے والے) بچے کا اذان د � � �� ت م � ( والے ں۔ � ت � پڑ ھ ینہ ی � ت اذان اور اقامت ن یتی ن � خوا ا ہے۔ ت � زم کے ساتھ پڑھا جا � ج � ری حرف کو خ � ر جملے کے آ ہر � کے ت اذان اور اقامت راتے ہوئے احترام سے ہر � رات اور شہادتوں کو د � � ب � ت ک � اذان کی ت ق � مؤذن اذان پڑھتے و دعا پڑھی جاتی ہے: � پر درجِ ذ یتک م � ِسنی جاتی ہے اور اذان کی َاَللّهُمّ رَبّ هٰذِهِ الدّعْوَةِ التّۤامّةِ وَالصّلٰاٰةِ الْقَائِمَة الْوَس۪يلَةَ وَالْفَض۪يلَة ۽ ُاٰتِ مُحَمّدًا الّذ۪ى وَعَدْتَه ۽ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا 5 اِنّكَ لََ تُخْلِفُ الْم۪يعَادَ رجمہ: “اے اللہ جو اس مکمل دعا اور قائم ہونے والی نماز کا مالک ہے حضرت محمد (صلی اللہ ت � 5 رما جس کا تو نے ان سے ف � ز � � رما اور ان کو “مقامِ محمود” پر فا ف � عطا ت � ل � ض � لہ اور ف � ہ وسلم) کو و س � عل ا۔” ت � کر ینہ ی � ش ک تو اپنے وعدے کے خلاف � � ب � ۔ ا ہے � رما ف � وعدہ

RkJQdWJsaXNoZXIy NTY0MzU=